SUPREME COURT OF PAKISTAN

کیا مجبوری ہو تو آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟ اصول توڑ‌دیے جاتے ہیں؟؟ چیف جسٹس سپریم کورٹ

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے اگر سنی اتحاد اور تحریک انصاف ایک ہو جاتیں تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن وہ بھی نہیں کیا۔

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی اور، سنی اتحاد نے بڑی غلطیاں کی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا آپ کو 80سے زائد سیٹیں ملیں، آپ کو فائدہ ہوا۔ آپ سے کچھ چھینا نہیں گیا۔ سیاسی جماعت کی ممبرشپ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا الیکشن ایکٹ کے مطابق کوئی شخص دو جماعتوں کا رکن نہیں ہو سکتا۔ کنول شوزب کو پہلے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم پی ٹی آئی کا نہیں، سنی اتحاد کونسل کا کیس سن رہے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا ان کی موکلہ نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ 86 امیدوار ایک فرد والی جماعت میں کیوں شامل ہوئے؟ کیا وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کے امیدوار دوسری جماعت میں گئے؟

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا ہمیں بتایا گیا انتخابی نشان واپس ہوگیا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مجبوری میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا مجبوری ہو تو کیا آئین و قانون کو نہیں مانا جاتا؟ کیا مجبوری میں تمام قوانین اور اصول توڑ دیئے جاتے ہیں؟

سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا سینیئر وکلا نے فیصلہ کیا سنی اتحاد کونسل میں شمولیت میں کوئی حرج نہیں۔ کہا جا رہا تھا پی ٹی آئی کالعدم ہو جائے گی۔ اس چیف جسٹس نے کہا پی ٹی آئی میں کوئی وکیل نہ ہوتا، پہلا الیکشن لڑ رہی ہوتی تو ہم یہ مفروضے سنتے۔ مجبوریوں پر جائیں تو ملک نہیں چلے گا۔ کل کوئی کہے گا مجبوری ہے سگنل پر رُک نہیں سکتا، کسی نے غلط ایڈوائس دی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا ایسا ہوسکتا ہے لیکن یہ فیصلہ تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تو یہ مشورہ دینے والے پر کیس کریں۔ آئین عوام اور منتخب نمائندوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب آئین واضح ہو تو تشریح کی ضرورت نہیں۔ آئین کی اہمیت ہے جو چیز آئین میں واضح ہے، اس پر عمل کریں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہم نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، الیکشن کمیشن بھی گئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کوئی سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟۔ بار بار سپریم کورٹ کا نہ کہیں۔ رجسٹرار کے پاس جوڈیشل پاور نہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سنی اتحاد کونسل کے وکلا سے پوچھا آپ سیکشن سے ایک لفظ لے کر اپنے کیس کو نہیں چلا سکتے۔ آپ دکھائیں کہ سنی اتحاد نے پارٹی لسٹ دی، کیا لسٹ دی؟

سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا سیاسی جماعت کو جیتی گئی سیٹوں سے زیادہ نہیں مل سکتیں۔ مخصوص نشستیں خالی نہیں چھوڑی جا سکتیں۔ سپریم کورٹ کو دیکھنا ہے کہ خالی نشستوں کو کیسے فِل کرنا ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا اگر آپ سیاسی جماعت نہیں تو خالی نشستیں کہاں جائیں گی؟ فیصل صدیقی نے کہا سپریم کورٹ کو پھر دیکھنا ہوگا کہ آزاد امیدوار کون ہیں؟۔ الیکشن کمیشن نے اقرار کیا ہے سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا جن کی لڑائی لڑ رہے وہ امیدوار سنی اتحاد کے ہیں یا تحریک انصاف کے؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ فی الحال تو سنی اتحاد کے ساتھ ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فی الحال کی بات نہ کریں، آپ کے ساتھ ہیں یا نہیں۔؟

جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا الیکشن کمیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل کا آئین خواتین اور غیر مسلم کو ممبر نہیں بناتا کیا یہ درست ہے؟
فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ خواتین کو نہیں، غیر مسلم کی حد تک یہ پابندی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پاکستان کا جھنڈا دیکھیں اس میں کیا اقلیتوں کا حق شامل نہیں؟ قائد اعظم کا فرمان بھی دیکھ لیں۔ کیا آپ کی پارٹی کا آئین، آئین پاکستان کی خلاف ورزی نہیں؟

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا فرض کریں اگر یہ اصول طے کیا جاتا ہے کہ امیدوار پی ٹی آئی کے تھے تو پھر آپ کدھر کھڑے ہونگے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں