اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور پاکستان میں ان کا کردار

اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور پاکستان میں ان کا کردار

دنیا آج تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن ترقی کے ساتھ بہت سے مسائل بھی ہیں، جیسے غربت، بھوک، بیماری، تعلیم کی کمی، صنفی امتیاز، اور ماحولیات کی بگڑتی ہوئی حالت۔ ان مسائل کو حل کرنے اور دنیا کو بہتر اور منصفانہ بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ نے 2015 میں 17 پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals – SDGs) متعارف کروائے۔

  1. 1. غربت کا خاتمہ

    اقوامِ متحدہ کا پہلا ہدف دنیا سے غربت کو ختم کرنا ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، جیسے کھانے، کپڑے اور رہائش۔ یہ ہدف سب کے لیے اچھی زندگی کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔

  2. بھوک کا خاتمہ

    دوسرا ہدف بھوک ختم کرنا اور ہر شخص کو خوراک کی دستیابی ہے۔ لاکھوں لوگ دنیا میں اور پاکستان میں آج بھی بھوکے ہیں، اس لیے سب کے لیے خوراک مہیا کرنا ضروری ہے۔

  3. اچھی صحت اور فلاح

    تیسرا ہدف ہر شخص کے لیے صحت مند زندگی اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس میں بیماریوں کی روک تھام، صحت مند ماحولیاتی حالات، اور بہتر ہسپتالوں کی فراہمی شامل ہے۔

  4. معیاری تعلیم

    چوتھا ہدف ہر بچے اور بڑے کے لیے معیاری تعلیم ہے۔ تعلیم ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان مساوات پر بھی زور دیتا ہے۔

  5. 5. صنفی مساوات

    پانچواں ہدف خواتین کے حقوق اور مرد و خواتین میں مساوات ہے۔ خواتین کو تعلیم، کام، اور معاشرتی زندگی میں برابر کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

  6. صاف پانی اور صفائی

    چھٹا ہدف ہر شخص کو صاف پانی اور صفائی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ آلودہ پانی اور خراب ماحول صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

  7. 7. صاف اور سستی توانائی

    ساتواں ہدف ہر شخص کو صاف اور سستی توانائی کی فراہمی ہے۔ اس میں بجلی کی بچت اور ماحول دوست توانائی شامل ہے۔

  8. معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع

    آٹھواں ہدف معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ ہر فرد اپنی صلاحیت کے مطابق کام کر سکے اور غربت سے نکل سکے۔

  9. 9. صنعت، جدت اور بنیادی انفراسٹرکچر

    نوواں ہدف صنعت، جدت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ترقی تیز اور پائیدار ہو۔

  10. عدم مساوات کا خاتمہ

    دسواں ہدف ملکوں اور اندرون ملک لوگوں کے درمیان امیر اور غریب میں فرق کم کرنا ہے۔ سب کے لیے برابر کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

  11. محفوظ اور پائیدار شہر
    گیارہواں ہدف شہر اور کمیونٹی کو محفوظ، پائیدار اور سہولتیں فراہم کرنے والا بنانا ہے۔

  12. ذمہ دارانہ پیداوار اور استعمال

    بارہواں ہدف وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور فضلہ کم کرنا ہے۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔

  13. موسمی تبدیلی کے خلاف اقدام

    تیرہواں ہدف موسمی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور ماحول کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

  14. سمندری وسائل کی حفاظت

    چودہواں ہدف سمندروں اور ان میں موجود حیاتیات کی حفاظت کرنا ہے۔ آلودگی اور شکار سے بچاؤ ضروری ہے۔

  15. زمین اور جنگلات کی حفاظت

    پندرہواں ہدف زمین، جنگلات، اور حیاتیات کی حفاظت ہے تاکہ زمین کا توازن برقرار رہے۔

  16. امن، انصاف اور مضبوط ادارے

    سولہواں ہدف امن، انصاف، اور مضبوط ادارے بنانا ہے تاکہ ہر فرد محفوظ اور حقوق سے مستفید ہو۔

  17. عالمی شراکت داری

    سترہواں ہدف ممالک کے درمیان تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینا ہے تاکہ ترقی سب کے لیے ممکن ہو۔

پاکستان میں اہداف کے حصول کے لیے اقدامات
پاکستان نے ان اہداف کو اپنی ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا ہے۔ حکومت اور مختلف ادارے تعلیم، صحت، غربت، صفائی، اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی اسکول اور کالجز معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، صحت کی سہولیات میں بہتری کی جا رہی ہے، اور صاف پانی اور ماحول کی حفاظت کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ مختلف معاہدے اور پروگرامز بھی کیے ہیں، جیسے پاکستان-اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (UNDP Pakistan) جو غربت، تعلیم، اور ماحول کے شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ، پانی کی بچت، اور توانائی کے شعبے میں بھی عالمی شراکت داری موجود ہے۔

پاکستان کے نوجوان اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی ان اہداف کو حاصل کرنے میں سرگرم ہیں۔ وہ کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرتے ہیں، ماحول کی حفاظت کے پروگرام چلاتے ہیں، اور لوگوں کو چھوٹے چھوٹے اقدامات کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اگر ہر شخص اپنا حصہ ڈالے اور دوسروں کو بھی آگاہ کرے تو پاکستان میں امن، مساوات، ترقی، اور پائیداری ممکن ہے، اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مستقبل بنایا جا سکتا ہے۔

رائٹر ریسرچر ریحانہ اعجاز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *