مجھے اغوا کیا گیا، جنگی قیدی ہوں ابھی بھی ملک کا صدر ہوں، نکولس مادورو

وینزویلا کے صدر  نکولس مادورو نے کہا کہ ان کو اغوا کیا گیا ، امریکی عدالت میں لگائے گئے الزامات کے جواب میں  بولے کہ ابھی بھی اپنے ملک کا صدر ہوں  ، عدالت نے ان پر اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم عائد کر دی  اور جج نے  دوبارہ سماعت  کے لیےحیران کن طور پر اکہتر روز بعد کی تاریخ دے دی، وکیل کے مطابق مادورو کی اہلیہ کی پسلی پر شدید چوٹ کے نشانات ہیں،جبکہ چہرے پربھی پٹی تھی   

زبردستی امریکا لائے گئے  وینزیلا کے صدر مادوروکو  نیویارک  کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ، وینزویلا کے صدراور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن لایا گیا جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔

امریکی میڈیا کےمطابق وینزویلا  کے  صدر کو قیدیوں کا یونیفارم پہناکر  اور ہتھکڑیوں  لگا کر عدالت میں لایا  گیا۔ عدالتی کارروائی کو  سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون  پہن رکھے تھے 

 وفاقی عدالت کے جج نے  ان سے شناخت پوچھی تو  انہوں نے جواب دیا کہ  وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ جج نے  مادورو کے خلاف  امریکی حکومت کے  الزامات پڑھ کر سنائے تو مادورو نے تمام الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا  وہ  بے گناہ ہیں،

 انہوں نے  امریکا پر الزام لگایا کہ انکو اغوا کیا گیا ،وہ    اب بھی اپنے ملک کے صدر اور ایک مہذب آدمی ہیں، ساتھ ہی کہا کہ  عدالت میں  جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کے بھی  قصوروار نہیں ہیں ۔مادورو کی اہلیہ نے بھی اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا وہ بے قصور اور بے گناہ ہیں۔

جج نے حیرتناک طور پر مقدمے میں لمبی تاریخ دیتے ہوئے  اکہتر دنوں کے بعد  مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز زبردستی  امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کردیا گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *