April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

بلبل پاکستان کے نام سے مشہورلیجنڈ گلوکارہ نیرہ نور انتقال کرگئیں

NAYYRA NOOR

بلبل پاکستان کے نام سے مشہور پاکستان کی لیجنڈ گلوکار ہ نیرہ نور 71 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق گلوکارہ پچھلے چند روز سے بیمار تھیں اور کراچی میں ہی زیرعلاج تھیں،گلوکارہ کے انتقال کی تصدیق ان کے بھتیجے نے ٹوئٹر پر کی اور بتایا کہ میری تائی جہانِ فانی سے کوچ کر گئی ہیں۔

نیرہ نور کی نماز جنازہ آج سہہ پہر 4 بجے مسجد و امام بارگاہ یثرب ڈیفنس کراچی میں ادا کی جائےگی اور تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کی جائےگی۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ مری کے بعد فضا آج بھی سوگوار

نیرہ نور کی منفرد آواز پاکستانی موسیقی کی پہچان ہے- 3 نومبر 1950 کو بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں پیدا ہونے والی گلوکارہ قیام پاکستان کے بعد خاندان کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئیں اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

ابتدائی دنوں میں بیگم اختر اور کانن دیوی کی گلوکاری کا ان پر اثر تھا- اور جب ریڈیو پاکستان کے لیے گلوکاری کی تو نیرہ نور اس وقت نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کی طا لبہ تھیں۔

نیرہ نور نے فیض احمد فیض کے کلام کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے اپنی گلوکاری کے لیے ہمیشہ نہایت خوبصورت شاعری کا انتخاب کیا۔

ضرور پڑھیں:پاکستانیوں‌نے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کو قرار دے دیا

بلبل پاکستان نے متعدد ٹی وی سیریلز کے لیے بھی گیت گائے اور ان کے گائے ملی نغمے بھی بہت مشہور ہوئے، نیرہ نور نے 2012 میں پیشہ وارانہ گائیکی کوخیر باد کہہ دیا تھا۔

نیرہ نور کو نور کو متعدد قومی اعزازات سے نوازا گیا، انہیں 2006 میں صدر پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے ساتھ بلبل پاکستان کے خطاب سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ نیرہ نور کو 1973 میں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *