April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

سانحہ مری کے بعد فضا آج بھی سوگوار، سیاحوں‌کے داخلے پر پابندی، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

MUREE RESCUE scaled e1641795276886

مری اورگلیات میں سیاحوں کے داخلے پرآج بھی پابندی برقرار رہے گی۔ برفباری سےمتاثرہ تمام مرکزی شاہراہیں کھول دی گئیں- معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سیاحوں کی اموات کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سانحہ مری کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کردی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مری کو ضلع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سانحہ مری کے بعد فضا آج بھی سوگوار۔۔ مری اور گلیات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی برقرار۔۔ برفباری سے متاثرہ تمام مرکزی شاہراہیں کھول دی گئیں۔ سانحہ مری کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

کمیٹی کےٹی او آرز طے کرلیے گئے ہیں۔ موسمیاتی وارننگ کے باوجود جوائنٹ ایکشن پلان کیوں نہیں بنایا گیا؟ کیا سیاحوں کو کوئی وارننگ دی گئی؟ گاڑیوں کی گنجائش سے زیادہ آمد کو کیوں نہیں روکا ؟ ريسکيو آپریشن کس حد تک کامیاب رہا ؟ کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا؟ معاملے میں کیا کمی اور کوتاہیاں کن کن افسران کی تھی؟ ان تمام سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ سات روز میں پیش کرے گی۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مری میں نہ بجلی تھی نہ مشینری، انتظامیہ بھی طوفان تھمنے کے بعد جاگی۔ مری کی سڑکوں کی دو سال سے مرمت نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بجلی نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے ہوٹلز چھوڑ کر گاڑیوں میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔ مری میں گاڑیوں کیلئے کوئی پارکنگ پلازہ بھی موجود نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مری کا فضائی دورہ کیا۔ اور گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کی آمد پر برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے مری کو ضلع بنانے کا اعلان بھی کیا۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے آٹھ ، آٹھ لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *