اسلام آباد کی اپنی اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو لانے کی تیاری

اسلام آباد نیا اتنظامی یونٹ

اسلام آباد کی اپنی اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو لانے کی تیاری

وفاقی دارالحکومت کے باسیوں کے لیے ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اعلیٰ سطح کی ایک خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کو ملک کا پہلا باقاعدہ انتظامی یونٹ بنانے کا مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دیا ہے۔ اس نئے گورننس ماڈل کے تحت، وفاقی دارالحکومت کا بکھرا ہوا انتظامی نظام ختم کر کے اسے ایک منتخب اور جوابدہ حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔

نئے صوبوں کی بحث: سیاسی نعروں اور آئینی حقائق کے درمیان فرق

27 رکنی اسمبلی اور عوامی نمائندگی

نئے مسودے کے مطابق، اسلام آباد کو اپنی ایک بااختیار اسمبلی دی جائے گی۔ 27 ارکان پر مشتمل اس ایوان میں 21 اراکین براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔ اس کے علاوہ، خواتین کی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے 5، جبکہ اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔

ایم ایل ون ریلوے منصوبہ: 2.5 ارب ڈالر کے پروجیکٹ پر جنوری سے کام کا آغاز

نیا چیف ایگزیکٹو کون ہوگا؟

اس مجوزہ نظام کی سب سے اہم بات اسلام آباد کا اپنا ‘چیف ایگزیکٹو’ لانا ہے۔ اس عہدے کو ‘چیف منسٹر’ یا ‘میئر’ کا نام دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ چیف ایگزیکٹو مکمل طور پر منتخب اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوگا، جس سے شہر کے انتظامی معاملات میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔

امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ: پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا معطلی کا اقدام کالعدم قرار

نئی مقامی حکومت کے ماتحت 27 انتظامی محکمے کام کریں گے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور دیگر بنیادی شہری سہولیات جیسے اہم محکمے براہِ راست اسی منتخب حکومت کے کنٹرول میں ہوں گے۔

وفاق کے پاس کیا رہے گا؟

اگرچہ بیشتر انتظامی امور مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، لیکن وفاقی حکومت قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ کا کنٹرول اپنے پاس ہی رکھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سی ڈی اے (CDA) سمیت دیگر اداروں کے اختیارات کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا تاکہ اداروں کے درمیان تصادم ختم ہو اور ایک مربوط نظام قائم ہو سکے۔

حکومت پنجاب نے اراکین اسمبلی اور مشیروں کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے

ڈرافٹ کے اہم نکات:

  • اسمبلی کا قیام: 27 رکنی ایوان (21 عام نشستیں، 5 خواتین، 1 اقلیت)۔

  • انتظامی سربراہ: منتخب چیف ایگزیکٹو جو اسمبلی کو جوابدہ ہوگا۔

  • عوامی سہولیات: صحت اور تعلیم سمیت 27 محکمے مقامی حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔

  • وفاقی کنٹرول: امن و امان اور ماسٹر پلاننگ وفاق کے ذمے رہے گی۔

  • قانون سازی: اس نئے نظام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ نیا قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

اس تاریخی مسودے کی تیاری میں وفاقی وزراء محسن نقوی، احسن اقبال، مصدق ملک اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے علاوہ سیکرٹری داخلہ، کیبنٹ، فنانس، کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے سمیت اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اب اس مجوزہ رپورٹ پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔

میر رضا قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *