نئے صوبوں کی بحث: سیاسی نعروں اور آئینی حقائق کے درمیان فرق

پاکستان میں نئے صوبے

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر مبنی سوشل میڈیا مہم نے ایک بھرپور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم آئینی حقائق اس عمل کو ڈیجیٹل نعروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ بناتے ہیں۔

پاکستان میں انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز ہیں۔ اس ڈیجیٹل مہم نے ملکی سیاسی قیادت کو بھی ردعمل دینے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے یہ دیرینہ انتظامی مسئلہ دوبارہ قومی خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔

دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے وفاقی منصوبے کے خلاف سندھ میں احتجاج

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو کرنا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پڑوسی صوبوں سے آنے والے سیاسی چیلنجز کے بیانات پر کڑی تنقید کی ہے، اور موجودہ صوبائی سرحدوں کو سیاسی تناؤ کا سبب قرار دیا ہے۔

صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کے خلاف پروپیگنڈے کے پیچھے سازش کارفرما ہے، محسن نقوی

تاہم، ڈیجیٹل مطالبات کو قانونی شکل دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 سے گزرنا لازمی ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی (جس کی حدود میں تبدیلی ہونی ہو) سے بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں یہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا ایک بہت بڑی قانون ساز رکاوٹ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مہم فوری آئینی ترامیم سے زیادہ سیاسی دباؤ اور وسائل کی تقسیم کے تحفظات پر مبنی ہے۔

گرانقدر خدمات دینے والی شخصیات کو اعزازات کی تقسیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *