PUNJAB ASSEMBLY

پنجاب کے جم خانوں کو سرکاری زمین 417 روپے ماہانہ لیز پر دینے کا معاملہ

پنجاب کے مختلف شہروں میں جم خانہ کلبوں کے لئے سرکاری زمینیں دینے کا معاملہ پنجاب اسمبلی تک پہنچ گیا۔

حکومتی رکن اسمبلی امجد علی جاوید نے معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مختلف جم خانہ کو چار سو سترہ روپے ماہانہ لیز پر زمین دی جارہی ہے۔

جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے کم کرائے پر زمین کیسے دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر کچھ بھی بولنے سے قاصر ہوں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا واقعی چار سو ستر روپے پر ماہانہ پر زمین دی جارہی ہے۔

جس کے جواب میں حکومتی بینچ کے رکن اسمبلی سمیع اللہ خان نے کہا کہ جناب اسپیکر آپ نے کچھ رقم بڑھا دی ہے یہ چار سو ستر نہیں چار سو سترہ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی نے اس تحریک پر دستخط اس لئے نہیں کیئے کہ جم خانہ کی ممبر شپ نہیں لینی حقائق سامنے لانا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے ایم پی اے سعید اکبر نوانی نے کہا کہ ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کرسکیں گے۔ غریب آدمی سے لاکھوں روپے لیز کے لئے جاتے ہیں۔ اتنے کم پیسے لینے کی بجائے ان کو یہ پیسے بھی معاف کردیں۔ نہ ہم یہ بڑھوا سکے ہیں اور نہ کچھ کرسکیں گے۔ میں ہاؤس میں کھڑے ہوکر کہہ رہا ہوں ہم کچھ نہیں کرسکیں گے۔

جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایک بار پھر کہا کہ چار سو سترہ روپے کی لیز پر جم خانہ کیوں۔

مجتبی شجاع الرحمان نے کہا کہ جناب اسپیکر یہ میرے لئے بھی حیران کی بات ہے، میں ڈیپارٹمنٹ سے اس کا جواب طلب کرتا ہوں۔ مجھے نہیں پتہ یہ کس ڈیپارٹمنٹ کی زمین ہے۔

جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ میاں صاحب یہ پنجاب حکومت کی زمین ہے کلب والے جواب نہیں دیتے آپ محکمے سے جواب لیں۔
رانا آفتاب نے کہا کہ میاں صاحب کی ان کی فیملی کا جم خانہ سے تعلق ہے، میں خود پریشان ہوں کیوں چار سو سترہ روپے کیوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں