خطبہِ حج 2026: مسجدِ نمرہ سے امتِ مسلمہ کے لیے تقویٰ، توحید اور صبر پر مبنی خصوصی پیغام جاری
میدانِ عرفات میں لاکھوں عازمینِ حج کا اجتماع، اکرامِ الٰہی اور اتباعِ سنت پر زور
میدانِ عرفات: مناسکِ حج کے سب سے بڑے رکن ‘وقوفِ عرفہ’ کے موقع پر مسجدِ نمرہ سے خطبہِ حج جاری کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام اس وقت میدانِ عرفات میں موجود ہیں، جہاں وہ اکرامِ الٰہی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے سفر طے کر کے جمع ہوئے ہیں۔ خطبہِ حج میں امتِ مسلمہ کو تقویٰ، عہد کی پاسداری اور کلمہِ توحید پر سختی سے کاربند رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
خطبے کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ آخرت کی تیاری کا سب سے اہم عمل توحید پر قائم رہنا اور صرف اللہ کی عبادت اختیار کرنا ہے، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ آج ادا کیا جا رہا ہے، عازمینِ حج کی میدانِ عرفات آمد جاری
خطبہِ حج کے اہم ترین نکات اور اسلامی تعلیمات
خطبے میں قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کے بنیادی اوصاف کا احاطہ کیا گیا:
-
تقویٰ اور ایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ تقویٰ اختیار کرنا ہی اہل ایمان کی اصل شان ہے۔ جب ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں۔
-
عہد کی پاسداری اور سچائی: تمام مسلمانوں کو اپنے عہدوپیمان کی پاسداری کرنی چاہیے اور اللہ کے فرمان کے مطابق ہمیشہ جھوٹ بات سے بچنا چاہیے۔
-
ختمِ نبوت: اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبین ہیں، اور حج اصل میں اللہ کے سامنے جھکنے اور نبی کریم ﷺ کی کامل پیروی کرنے کا نام ہے۔
مصائب پر صبر اور اجرِ عظیم کا وعدہ
خطبہِ حج میں مسلمانوں کو درپیش عصری چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے صبر کی تلقین کی گئی۔ امتِ مسلمہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ہر مصیبت اور آزمائش میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ حجاج کو یاد دلایا گیا کہ یہ وہ عظیم اور مقدس جگہ ہے جہاں اللہ نے اپنا پاک کلام نازل فرمایا اور سب نے بالآخر اسی ربِ کائنات کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔