ملک بھر میں عیدالاضحیٰ عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

ملک بھر میں عیدالضحیٰ

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں

اسلام آباد:

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کا تہوار روایتی مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور اور پشاور سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عید کی نماز کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں ملکی سلامتی، معاشی استحکام اور امت مسلمہ کی خوشحالی کے لیے خصوصی اجتماعی دعائیں مانگیں گئیں۔ نمازِ عید کی ادائیگی کے فوراً بعد ملک بھر میں سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی نمازِ عید کی ادائیگی

ملک کی مرکزی سیاسی و ریاستی قیادت نے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات اور عمائدین کے ہمراہ عید کی نماز ادا کی:

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عیدالاضحیٰ کی نماز زرداری ہاؤس نوابشاہ میں ادا کی۔ نماز کے بعد صدرِ مملکت نے ملک کی یکجہتی، سلامتی اور معاشی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔ انہوں نے زرداری ہاؤس میں موجود شہریوں اور علاقائی عمائدین سے روایتی گرمجوشی کے ساتھ عید ملاقات بھی کی۔

  • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لاہور میں نمازِ عید ادا کی۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ وزیراعظم نے ملک و قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کے عید اجتماعات

صوبائی سطح پر بھی عید کی خوشیاں بھرپور طریقے سے منائی گئیں اور قیادت نے عوام کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹیں:

  • صوبائی گورنرز: گورنر پنجاب سلیم حیدر خان نے اٹک، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان، اور گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں عید کی نماز ادا کی۔

  • وزرائے اعلیٰ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے باغِ ناران، حیات آباد (پشاور) میں نمازِ عید کے اجتماع میں شرکت کی۔

خطباتِ عید اور سنتِ ابراہیمی کا آغاز

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخی فیصل مسجد، کراچی کی سبیل والی مسجد، لاہور کے باغِ جناح اور پشاور کی مرکزی مساجد میں نمازِ عید کے بڑے اجتماعات دیکھنے کو ملے۔ عید کے خطبات میں علمائے کرام نے فلسفۂ قربانی اور ایثار و اخوت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

نماز کے اختتام پر شہریوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد پیش کی، جس کے بعد گلی گلی اور نگر نگر سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو عید کے تینوں دن جاری رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *