جو بھی اسلام آباد پر حکمرانی کرنے آیا وہ اس شہر کو پہلے سے زیادہ خراب حالت میں چھوڑ کر گیا۔ اکثر وزرائے اعظم کا تعلق لاہور‘ ملتان یا سندھ اور بلوچستان سے رہا۔ اگرچہ میری یادداشت کے مطابق دو وزیراعظم اسی علاقے سے بھی بنے مگر حادثاتی طور پر۔ جب تک وہ خود کو یقین دلاتے کہ وہ وزیراعظم ہیں اتنی دیر میں ان کا وقت پورا ہو گیا۔ 2012ء میں یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے تو راجہ پرویز اشرف کو تقریباً سوا سال کیلئے وزیراعظم بنایا گیا۔ وہ ابھی خود کو یقین دلا ہی رہے تھے کہ میں اس ملک کا وزیراعظم ہوں کہ ان کا وقت ختم ہوگیا۔ نواز شریف 2017ء میں نااہل ہوئے تو شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا گیا‘ ایک سال بعد ان کی مدت بھی ختم ہو گئی۔ اگرچہ دونوں کا تعلق اسلام آباد ضلع سے نہ تھا لیکن وہ اردگرد کے علاقوں سے تھے۔ راجہ پرویز اشرف کا تعلق گوجر خان اور شاہد خاقان عباسی مری سے تھے۔مگر دونوں کو اسلام آباد پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملا ‘ وہ نجی معاملات میں مصروف رہے۔ اگرچہ شاہد خاقان عباسی کے کریڈٹ پر اسلام آباد کا ایک کام ضرور ہے‘ جو بیان کرنا چاہیے۔ جب عمران خان نے 2014ء میں دھرنا دیا تو حکومت کیلئے کافی مسائل پیدا ہوئے۔ 126 دن تک وہ ڈی چوک؍ اولڈ پریڈ گرائونڈ میں بیٹھے رہے۔ حکومت کو احساس ہوا کہ ڈی چوک میں آنے کی اجازت دے کر بڑی غلطی کی تھی۔ پیپلز پارٹی دور میں ڈاکٹر طاہرالقادری دھرنا لے کر اسی گرائونڈ میں بیٹھے تھے۔ اس کے بعد سے جلسے جلوس یہیں ہونا شروع ہو گئے اور رہی سہی کسر عمران خان کے دھرنے نے پوری کر دی۔ نواز شریف حکومت نے عمران خان کا دھرنا ختم ہوتے ہی پورے ڈی چوک کو کھود ڈالا‘ بلکہ یوں کہیں کہ پارلیمنٹ چوک سے ڈی چوک تک پوری سڑک کھڈوں میں بدل دی تاکہ آئندہ یہاں کوئی پہنچ نہ سکے اور اگر پہنچ جائے تو بیٹھنے کی جگہ نہ ملے۔ یوں یہ پورا منظر جو کبھی بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا‘بھدا اور بدنما ہو گیا ۔ سڑک بند کر دی گئی۔ مگر شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم دیا کہ فوری طور پر اس سڑک کو بحال کیا جائے اور اسے دوبارہ خوبصورت بنایا جائے۔ چند ہی دنوں بعد اس سڑک کی خوبصورتی بحال ہو گئی ۔یہ اُن کی وزارتِ عظمیٰ کا واحد اچھا کام ہے جو مجھے یاد ہے۔ یا پھر دوسرا کام یہ تھا کہ وہ وزیراعظم تو بن گئے لیکن انہیں وزیراعظم ہائوس میں رہنا نصیب نہیں ہوا۔ وہ ایف 8 سیکٹر میں اپنے گھر میں ہی رہائش پذیر رہے۔ اس کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں‘ ایک یہ کہ وہ سادہ مزاج ہیں اور انہیں علم تھا کہ سال بعد ویسے بھی اپنے گھر لوٹ جانا ہے تو اس ایک سال کیلئے وزیراعظم ہائوس میں رہ کر کیا کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مریم نواز صاحبہ اُن دنوں وزیراعظم ہائوس سے میڈیا سیل کی نگرانی کرتی تھیں‘ اور شاید اس حق میں نہیں تھیں کہ ان کے والد صاحب کے جانے کے بعد انہیں آفس چلانے میں دقت ہو۔ تیسری وجہ کچھ حاسد یہ بتاتے تھے کہ شریف خاندان نے مجبوراً شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم تو بنا دیا لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ وزیراعظم ہائوس میں رہ کر خود کو واقعی وزیراعظم سمجھنا شروع کر دیں‘ جیسے محمد خان جونیجو کے بارے کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیا نے انہیں مسکین سمجھ کر وزیراعظم بنوایا اور وہ ان کے سر کا درد بن گئے‘ جس سے چھٹکارا پاتے ہی وہ خود بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ چاہے وجوہات کچھ بھی ہوں‘ شاہد خاقان عباسی بہرحال مریم نواز صاحبہ سے ناراض رہے کہ وہ ان کے ماتحت کام نہیں کریں گے۔ یہی اعتراض چودھری نثار علی خاں کو بھی تھا کہ مریم نوازکو اپنا سیاسی باس بنانا آسان نہیں ہو گا۔ چودھری نثار علی سے تمام تر اختلافات کے باوجود ان کی اس بات کی داد دینا ہو گی کہ انہوں نے سیاسی کیریئر تباہ کر لیا لیکن یس باس نہیں کہا اور گھر چلے گئے۔ چودھری نثار جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے تھا‘ ان کی غصے بھری تقریریں میں مِس کرتا ہوں۔
اسی طرح راجہ پرویز اشرف بھی گوجر خان سے باہر نہ نکلے۔ ان کے بھائی راجہ جاوید اشرف ہی وزیراعظم بنے رہے ‘اور بہت سی باتین ان کے بارے مشہور رہیں۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو یا تو وقت کم ملا یا ان کی توجہ سی ڈی اے پر نہیں گئی لہٰذا اسلام آباد اُن کے ادوار میں بڑی حد تک اکھاڑ پچھاڑ سے محفوظ رہا۔ اگرچہ نواز شریف دور میں میٹرو بس کے نام پر شہر میں سریا سیمنٹ ڈالا گیا اور اس کی شکل بہت تبدیل کی گئی لیکن اب بھی شہر اُس صورتحال سے بچا ہوا تھا جو اَب پچھلے دو سالوں میں نظر آنے لگی ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سی ڈی اے‘ جو پہلے کابینہ ڈویژن کے ماتحت تھا‘ اسے وزارتِ داخلہ کے ماتحت کر دیا جائے۔ یوں وفاقی وزیر داخلہ جس کے ذمے ملک کی سکیورٹی‘ انٹیلی جنس اداروں اور دیگر سسٹم کی مانیٹرنگ اور کنٹرول تھا‘ وہ سی ڈی اے کے معاملات کو بھی دیکھنے لگا۔ 2019ء کے بعد ہر وزیر داخلہ ڈی ایم جی افسروں کو چیئرمین بنا کر اور باقی کو ڈیپوٹیشن پر لے آتا‘ اور اس کیلئے تگڑی سفارشیں چلتیں کیونکہ سی ڈی اے میں آ کر افسر چار پانچ کروڑ روپے کے پلاٹ کا مستحق ہو جاتا ۔ اگر اس سے پیچھے جائیں تو مشرف دور میں فیصل صالح حیات جب وزیر داخلہ تھے تو سی ڈی اے اُن کے ماتحت تھا اور ڈیپوٹیشن پر افسران دھڑا دھڑ سی ڈی اے لائے جا رہے تھے۔ ایک دن اُن افسروں نے آئی ایٹ میں واقع پرانے جی ٹی ایس بس اڈے کو گرا کر اسے پلاٹوں میں تبدیل کیا اور افسران کو الاٹ کر دیے۔ اکثر نے کروڑوں کے وہ پلاٹ بیچے اور نئے شکار کی تلاش میں نکل پڑے۔ پھر سی ڈی اے کابینہ ڈویژن کے پاس چلا گیا۔
اسلام آباد چھوٹا سا شہر ہے‘ جہاں اس وقت 12 ہزار ملازمین صرف سی ڈی اے میں جاب کرتے ہیں۔ باقی افسران آتے جاتے دیہاڑیاں لگا جاتے ہیں۔ شہر گند سے گندگی میں بدلتا چلا گیا۔ ہر چیئرمین ہر سال تیس‘ چالیس ارب کے پلاٹ بیچ کر تنخواہیں اور مراعات پر خرچ کر دیتا ہے۔ ہزاروں درخت‘ جنگل اور گرین بیلٹس کٹتی رہتی ہیں اور ماحول تباہ ہوتا رہتا ہے۔ محسن نقوی صاحب کے دور میں سابق کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو چیئرمین سی ڈی اے لگا یا گیا۔ ان کے دور میں پچھلے سال جولائی تا دسمبر‘ چالیس ارب کے پلاٹ فروخت کئے گئے‘ چالیس ہزار درخت کاٹے گئے‘ کئی کلومیٹر کے جنگل صاف کئے گئے اور جاتے جاتے وہ ڈی چوک سے ایوب چوک تک مزید درختوں کی بربادی کی منظوری دے گئے۔ اس دو سالہ کارکردگی کا نتیجہ ابھی چند دن پہلے اُس وقت سامنے آیا جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود کہا کہ اگر مجھے سی ڈی اے میں کوئی کام کروانا ہو تو مجھے بھی دس لاکھ روپے دینے پڑیں گے تو کام ٹھیک ہو گا۔ کوئی جواب طلبی یا ذمہ داری قبول کرنے کا فیصلہ‘ کچھ نہیں۔ اب انہوں نے بری امام کے پاس ہزاروں لوگوں کے گھر گرا کر کہا ہے کہ یہاں نیویارک اور شنگھائی جیسی عمارتیں بنیں گی۔ پورا شہر سراپا احتجاج ہے لیکن ذمہ داروں کو کسی کی پروا نہیں۔ بری امام کے نواحی علاقوں کی ایک عورت کی وڈیو دیکھی جو اپنے گھر کے ملبے پر کھڑی رو رہی تھی کہ وہ صبح دوسروں کے گھر کام کرنے گئی‘ شام کو لوٹی تو بچے گھر کے ملبے پر بیٹھے تھے۔ دوسری طرف کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دیا گیا‘ جب پولیس پہنچی تو چند گھنٹوں میں شہباز شریف میں رحمدلی جاگ گئی کیونکہ بہت سارے پیاروں کے مہنگے فلیٹس وہاں ہیں اور آپریشن روک دیا گیا۔ بس یہی فرق ہے امیر اور غریب میں۔ اور یہی خوبصورتی ہے ہماری۔
بشکریہ دنیا