بھارت میں مون سون بارشوں سے تباہی، کئی ریاستیں شدید متاثر
بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، ریاستیں ہماچل پردیش، پنجاب اور ہریانہ بری طرح متاثر ہیں جبکہ یکم ستمبر سے بارشوں کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہماچل پردیش میں 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں تباہ اور مواصلاتی نظام متاثر ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش کے مطابق تباہی کا پیمانہ 2023 کے سیلاب سے زیادہ ہے تاہم ہلاکتیں نسبتاً کم ہیں۔
ریاست تیلنگانہ میں دریائے گوداوری میں پانی کی سطح بڑھنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ پنجاب بھی شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے جہاں سات ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
ریاست اتراکھنڈ میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ دہلی میں دریائے جمنا کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی۔ صرف اگست میں 399 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوئی جس نے 15 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جموں-سری نگر ہائی وے بند ہے۔ اس دوران مذہبی یاترا کے دوران لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔