August 30, 2025 · 1 min read
پنجاب میں تاریخ ساز سیلاب — پانچ لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل
پاکستان کا صوبہ پنجاب اس وقت تاریخ کے بدترین سیلاب کا شکار ہے۔ پہلی بار راوی، ستلج اور چناب تینوں ندیاں بیک وقت طغیانی پر آئیں، جس سے ۲،۳۰۰ سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے اور ۱۵ لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔
۲۶ جون کے بعد سے ملک بھر میں بارشوں نے ۸۳۵ جانیں لے لی ہیں، جن میں ۱۹۵ صرف پنجاب میں شامل ہیں۔ ریسکیو اداروں نے ۸۰۰ سے زائد کشتیوں اور ۱۳۰۰ اہلکاروں کی مدد سے ۴۸۱،۰۰۰ افراد اور ۴۰۵،۰۰۰ مویشیوں کو نکالا۔ حکام کے مطابق یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن ہے۔
بڑے شہروں کو بچانے کے لیے مختلف مقامات پر کنٹرولڈ شگاف ڈال کر پانی کا رخ موڑا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے ۵۰۰ سے زائد ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں عارضی پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق تباہی کے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں۔ کسور کے ایک کسان نے کہا: “پانی نے سب کچھ تباہ کردیا۔۔۔ بمشکل اپنے جانور بچا سکا۔” لاہور کے شاہدرہ میں سیکڑوں خاندان پانی سے بچنے کے لیے اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
مزید بارشوں کی پیشگوئی نے خطرات بڑھا دیے ہیں، جبکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی خدشہ ہے۔ پنجاب کا یہ سیلاب ایک انسانی المیہ تو ہے، لیکن ساتھ ہی حوصلے اور جدوجہد کی کہانی بھی۔
Post Views: 196