چینی کمپنی کا بچے کو جنم دینے والا روبوٹ پیش کرنے کا اعلان

چینی کمپنی

چینی ٹیکنالوجی کمپنی کائیوا نے ایک ایسے ہیمنائیڈ روبوٹ کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جو مصنوعی روبوٹک بچوں کو جنم دے گا۔

مذکورہ منفرد روبوٹ کے پیٹ میں مصنوعی رحم نصب کیا جائے گا، جو دس ماہ تک جنین کو پال کر بچے کی پیدائش ممکن بنائے گا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ نے چینی میڈیا کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ روبوٹ کو 2026 تک متعارف کرایا جائے گا اور اس کی قیمت ایک لاکھ یوآن (تقریباً 13,900 ڈالر) سے تک ہوگی۔

چینی اے آئی ایپ ڈیپ سیک نے چیٹ جی پی ٹی کو مات دے دی

کمپنی کی جانب سے مذکورہ روبوٹ پیش کرنے کے اعلان کے بعد عوامی سطح پر شدید بحث شروع ہوگئی، اور لوگ اخلاقی خدشات سے لے کر بانجھ پن کے شکار افراد کے لیے امید کی کرن جیسے مسائل پر بحث کرتے دکھائی دیے۔

امریکا میں‌ چیٹ جی پی ٹی نے نوجوان جوڑے کی شادی کروادی

کائیوا ٹیکنالوجی کے بانی اور نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے وابستہ ژانگ کیفینگ نے ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں بیجنگ میں اس ہیمنائیڈ روبوٹ کا تصور پیش کیا۔

واٹس ایپ کا نیا فیچر، پیغام ڈیلیٹ کرنے کے بجائے باآسانی ایڈٹ کرنا ممکن

ژانگ کیفینگ کے مطابق یہ محض ایک انکیوبیٹر نہیں بلکہ ایک زندگی کے سائز کا ہیمنائیڈ ہے جس کے پیٹ میں مصنوعی رحم نصب ہوگا، جو تصور سے لے کر پیدائش تک پورے عمل کو نقل کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *