April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں ایکسپورٹرز اور ریٹیلرز پر بازی لےگیا

تنخواہ دار طبقہ ٹیکس

تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں ایکسپورٹرز اور ریٹیلرز پر بازی لےگیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برس تنخواہ دار طبقے نے 545ارب روپے کا تاریخی ٹیکس دیا۔

براہ راست ٹیکسوں کے لحاظ سےدیگر شعبوں کے مقابلے میں سیلریڈ کلاس کا حصہ سب سےزیادہ رہا۔ ایکسپورٹرز نے 180 اور ری ٹیلرز نے62 ارب روپے ٹیکس دیا۔

اعلیٰ حکام کے مطابق مجموعی طور پر تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال میں برآمد کنندگان اور تاجروں کی مشترکہ ادائیگی سے د گنا زیادہ انکم ٹیکس ادا کیا۔

مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

مالی سال 2023-24 میں تنخواہ دار طبقے نے 367 ارب روپے ٹیکس دیا تھا، جبکہ 2024-25 میں یہ رقم بڑھ کر 545 ارب روپے ہو گئی، یعنی 178 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

سعودی فاسٹ فوڈ چین ”البیک“ جلد پاکستان میں بھی کاروبار شروع کرے گی

بڑے بڑے دعووں کے باوجود پاکستان میں متعارف کرائی گئی تاجر دوست اسکیم ناکام رہی تاہم ملک میں موجود تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے دوران برآمد کنندگان اوررٹیلرزکی مجموعی ادائیگی کے دگناسے بھی زیادہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *