مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل 95 ڈالر کے قریب، توانائی بحران کا خدشہ

crude oil

خلیجی خطے میں نئی جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ

لندن / اسلام آباد — مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ہوشربا اضافے کے ساتھ 95 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ خلیجی سمندری گزرگاہوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں تیزی

بین الاقوامی منڈیوں سے موصولہ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمتیں گزشتہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے سودوں میں بھی غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں حالیہ حملوں اور سفارتی تعطل کے باعث تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کے انشورنس پریمیم میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستانی معیشت اور توانائی درآمدات پر اثرات

ادھر اسلام آباد میں معاشی ماہرین اور حکام نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافے سے پاکستان کے درآمدی بل اور اندرونی افراطِ زر پر شدید دباؤ آ سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرونی توانائی شاک کے باعث پیٹرولیم لیوی اور مقامی نرخوں کے توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ حکومت متبادل ایندھن اور ایل این جی کارگوز کی جلد ترسیل کے لیے حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

روس نے پاکستان کو رعایتی نرخ پر خام تیل فراہم کرنے سے معذرت کرلی

عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ لہر عالمی سطح پر معاشی نمو میں سست روی کا سبب بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *