این سی سی آئی اے نوٹس: لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی درخواست مسترد کر دی

محمد رضوان کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں مسترد

این سی سی آئی اے نوٹس: لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی درخواست مسترد کر دی

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی برہمی، حقائق چھپانے پر وکیل کی سرزنش اور شوکاز کا جواب دینے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد رضوان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے طلبی نوٹسز کے خلاف دائر درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے۔ سماعت کے دوران محمد رضوان خود عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالتِ عالیہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

ون ڈے بیٹنگ کی عالمی رینکنگ میں بابر اعظم کا راج برقرار

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عمیر قاضی پر برہم ہوتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا طلبی نوٹس کو باقاعدہ چیلنج کیا گیا تھا؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت سے حقائق چھپانے پر وکیل کو بھاری جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محمد رضوان قانون سے بالاتر نہیں، وہ این سی سی آئی اے کے شوکاز نوٹس کا باقاعدہ جواب دیں اور متعلقہ فورم پر پیش ہوں۔

کیس کے اہم نکات اور پس منظر

  • اختیار سماعت پر اعتراض: محمد رضوان نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ این سی سی آئی اے کے نوٹسز غیر قانونی ہیں اور ادارے کی جانب سے تحقیقات کی ٹھوس وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔

  • ڈریسنگ روم تنازع: یہ معاملہ انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز کے دوران قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم سے حساس معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے سے جڑا ہے۔

  • موبائل ڈیٹا جانچ: این سی سی آئی اے اس کیس میں محمد رضوان کے ساتھ ساتھ بیٹر امام الحق کو بھی طلب کر چکی ہے، جہاں مبینہ لیکس کے تناظر میں کھلاڑیوں کے موبائل فونز اور مواصلاتی رابطوں کی چھان بین جاری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب محمد رضوان کے پاس قانونی چارہ جوئی کے بجائے تفتیشی ایجنسی کے سامنے پیش ہو کر اپنے مؤقف کی وضاحت کے علاوہ دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *