فیفا ورلڈ کپ فائنل: ہوٹل کرایوں اور ٹرین ٹکٹوں میں تاریخی اضافہ

فیفا ورلڈ کپ فائنل

فیفا ورلڈ کپ فائنل: میٹ لائف اسٹیڈیم کے اطراف ہوٹل اور ٹرین کرایوں میں ہوشربا اضافہ

نیویارک/ نیو جرسی – فٹ بال کی دنیا کا سب سے بڑا معرکہ یعنی فیفا ورلڈ کپ کا فائنل آج رات ایسٹ رودر فورڈ، نیو جرسی کے تاریخی ‘میٹ لائف اسٹیڈیم’ میں کھیلا جائے گا۔ 82 ہزار 500 نشستوں کی گنجائش والے اس اسٹیڈیم میں فائنل میچ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین پہنچ چکے ہیں، تاہم اس تاریخی موقع پر نیویارک اور نیو جرسی میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا نیٹ ورک ‘اے بی سی نیوز’ اور ‘آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن’ کے مطابق، فائنل میچ کے باعث ہوٹل مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز نے شائقینِ فٹ بال کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔

ہوٹل کمروں کے کرایوں میں 900 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ

شہر میں رہائش پذیر ہونے والے غیر ملکی اور مقامی شائقین کے لیے ہوٹل بکنگ اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ عام دنوں کے مقابلے میں کرائے کئی گنا بڑھا دیے گئے ہیں:

  • معمولی کمروں کے غیر معمولی کرائے: جو ہوٹل کا کمرہ عام دنوں میں 150 سے 500 ڈالر فی رات میں دستیاب ہوتا تھا، اس کا کرایہ اب 1500 سے 4500 ڈالر (تقریباً 12 لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) فی رات تک وصول کیا جا رہا ہے۔

  • شائقین کی مجبوری: فائنل میچ کا جنون اس حد تک ہے کہ شائقین اتنے مہنگے داموں بھی کمرے بک کروانے پر مجبور ہیں۔

مین ہٹن سے اسٹیڈیم تک ٹرین کا کرایہ 12 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالر مقرر

مہنگائی کا یہ جن صرف ہوٹلوں تک محدود نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی پورٹ اتھارٹی کی جانب سے کرایوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

“نیویارک کے علاقے مین ہٹن سے میٹ لائف اسٹیڈیم تک کا فاصلہ محض 10 سے 12 میل ہے۔ عام دنوں میں ٹرین کا کرایہ صرف 12 ڈالر ہوتا ہے، مگر فائنل کی وجہ سے پورٹ اتھارٹی نے خصوصی طور پر اسٹیڈیم جانے والی ٹرینوں کا ٹکٹ 200 ڈالر (تقریباً 56 ہزار پاکستانی روپے) تک بڑھا دیا ہے۔” — بابر حسن قریشی، مقامی پاکستانی رہائشی

فائنل میچ اور مہنگائی کے اہم اعداد و شمار

  • اسٹیڈیم گنجائش: میٹ لائف اسٹیڈیم آج رات 82,500 فٹ بال مداحوں کی میزبانی کرے گا۔

  • ٹرانزٹ کرایہ اضافہ: 12 ڈالر کا ٹرین سفر اب 200 ڈالر کا ہو چکا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین ایونٹ ٹکٹ ہے۔

  • عوامی ردعمل: مقامی سطح پر اور سوشل میڈیا پر پورٹ اتھارٹی کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ پبلک سروس کے بجائے منافع خوری کے زمرے میں آتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *