اینکر مرید عباس دوہرا قتل کیس؛ مرکزی مجرم عاطف زمان کو دو بار سزائے موت کا حکم
کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے معروف ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کے ہائی پروفائل دوہرے قتل کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم عاطف زمان کو دو بار سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جو مقتولین کے ورثا کو ادا کیا جائے گا۔
اس ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ 4 جولائی 2026 کو فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا، جسے آج 9 جولائی 2026 کو عدالت نے کھلی سماعت میں سنایا۔ یہ فیصلہ اس اندوہناک واقعے کے ٹھیک 7 سال بعد سامنے آیا ہے۔
اشتہاری ملزم کی فراری اور کیس کے اہم ترین حقائق
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے اہم قانونی اور تفتیشی امور پر تفصیلی جرح کی گئی۔ کیس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
-
مرکزی مجرم کی سزا: فائرنگ کرنے والے مرکزی ملزم عاطف زمان کو، جو پہلے ہی جیل میں قید تھا، ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دو بار سزائے موت سنائی گئی۔
-
شریکِ جرم بھائی فرار: مجرم عاطف زمان کا بھائی اور مقدمے کا شریک ملزم عادل زمان، سپریم کورٹ آف پاکستان سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد سے روپوش ہے۔ ٹرائل کورٹ نے قانونی مروجہ کارروائی کے تحت عادل زمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔
-
جبران ناصر کی پیروی: مقتولین اور مدعی مقدمہ کی جانب سے ملک کے معروف قانون دان اور سماجی رہنما جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی اور عدالت کے سامنے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد پیش کیے۔
پسِ منظر: یہ لرزہ خیز واقعہ 9 جولائی 2019 کو کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا۔ کاروباری لین دین اور مالیاتی اسکیم کے تنازع پر مجرم عاطف زمان اور اس کے بھائی نے فائرنگ کر کے ٹی وی اینکر مرید عباس اور خضر حیات کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ مقتول مرید عباس کے مداحوں اور اہلخانہ کی جانب سے 7 سالہ طویل جدوجہد کے بعد آنے والے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے