April 13, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

سابق افغان صدر اشرف غنی کا افغانستان چھوڑنے کے بعد پہلا بیان

ashraf ghani

سابق افغان صدر اشرف غنی کا افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پہلا بیان آگیا- اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان جا چکے ہیں- خون ریزی سے بچنے کے لیے انہوں‌ںے ملک چھوڑا- ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو قتل عام ہوتا۔ سابق صدر نے افغان طالبان کو اُن کی ذمہ داریاں بھی بتا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھال لیا، جنگ ختم کرنے کا اعلان

سابق صدر اشرف غنی نے ایک سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے کہ ان کے کابل میں رہنے سے شہر میں بےشمار لوگوں کا قتل عام ہوتا- جس کے نتیجے میں ساٹھ لاکھ آبادی کے شہر کابل میں بڑا انسانی المیہ جنم لیتا-

مزید پڑھیں: پاک افغان بارڈر باب دوستی کھول دیا گیا، دو طرفہ ٹریڈ بھی بحال

اشرف غنی نے کہا کہ طالبان نے طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کیا ہے- اور اب وہ افغانیوں کے دفاع کے ذمہ دار ہیں۔ طالبان کو ایک تاریخی امتحان کا سامنا ہے- جس میں انھوں نے ثابت کرنا ہے کہ کیا وہ افغانوں کے عزت و وقار کا تحفظ کر سکتے ہیں- انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایک دانشورانہ تحریک کے ذریعے افغانستان کی خدمت جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *