پاکستان کی کامیاب سفارت کاری، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ گئے: پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان 14 روزہ سیز فائر کا اعلان
اسلام آباد: پاکستان کی اعلیٰ قیادت، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی قبول کرتے ہوئے 10 اپریل 2026 سے اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ٹرمپ کا الٹی میٹم اور پاکستانی قیادت کا کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل، پاکستان نے متحرک سفارتکاری کے ذریعے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تصدیق کی کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کر دیا ہے۔
ایران کا خیر مقدم اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے مخلصانہ کردار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی۔
مذاکرات کے اہم نکات:
تاریخ: جمعہ، 10 اپریل 2026۔
مقام: اسلام آباد، پاکستان۔
ایجنڈا: ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز پر غور اور پائیدار امن معاہدہ۔
دائرہ کار: وزیر اعظم کے مطابق یہ جنگ بندی لبنان سمیت دیگر علاقائی محاذوں پر بھی لاگو ہوگی۔
