علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہ
تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا سخت انتباہ
ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق علی لاریجانی کا خون ایرانی قومی بیداری کی علامت بن چکا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ “صہیونی طاقتوں کے خلاف حوصلہ مزید بلند ہے اور شہدا کی قربانی کا حساب ہر صورت لیا جائے گا”۔
تل ابیب، دبئی اور بغداد نشانے پر
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے:
-
متحدہ عرب امارات: ایران نے یو اے ای میں مختلف مقامات پر ڈرون حملے کیے۔
-
عراق: بغداد ایئرپورٹ کے قریب قائم امریکی سفارتی و عسکری مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
- خدا کا بندہ خدا سے ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید ہو گئے
سفارتی محاذ: امریکی اڈے ‘جائز اہداف’ قرار
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے ہم منصب سے گفتگو میں دوٹوک موقف اپنایا کہ خطے کے دیگر ممالک میں قائم تمام امریکی فوجی اڈے ایران کے لیے جائز اہداف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی کارروائیوں کا رخ براہِ راست امریکی و صہیونی تنصیبات کی طرف ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا خراجِ عقیدت
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علی لاریجانی کو ایک عظیم قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات خطے کے امن اور استحکام کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
