April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

شرح سود 7 فیصد پر برقرار رہے گی، اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

state bank of pakistan 640x384 1

اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا.

گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رہے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کورونا وبا کے بعد شرح سود میں 6.25 فیصد کمی کی جاچکی ہے۔ مارچ کے بعد شرح سود 13.25 فیصد سے گھٹ کر 7 فیصد کیا گیا۔ مارچ کے بعد شرح سود 13.25 فیصد سے گھٹ کر7 فیصد کیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج گزشتہ سال بہترین مارکیٹ قرار پائی ہے۔ کورونا وبا سے دنیا کے تمام ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گورنر اسٹیٹ بین رضا باقر نے کہا زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب اقتصادی سست روی اور معاشی شرح نمو کم ہونے کے باعث مرکزی بینک کی طرف شرح سود میں مسلسل کمی کی جاتی رہی ہے۔ جنوری 2020 میں شرح سود13.2فیصد تھی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 17 مارچ کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 75 بیسس پوائنٹس کی کمی کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد شرح سود 13.25 فیصد سے 12.50 فیصد تک کم ہوئی۔

ایک ہفتہ کے بعد 24 مارچ 2020 کو ایم پی سی کا ہنگامی اجلاس پھر منعقد ہوا تاکہ کورونا وائرس کی وبا کے اقتصادی اثرات کا ازسر نو جائزہ لیا جا سکے۔ اجلاس میں شرح سود میں مزید 1.50 فیصد کی کمی کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد شرح سود 11 فیصد تک کم ہو گئی۔

بعد ازاں 16 اپریل 2020 کو ایم پی سی کے اجلاس میں بیسس پوائنٹس میں مزید 200 کی کمی کی گئی جس سے شرح سود 9 فیصد تک کم ہو گئی۔

اسٹیٹ بینک نے15مئی کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں مزید 100بیسز پوائنٹس کم کیے یعنی ایک فیصد کمی کرکے 8فیصد کردی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے25 جون کو نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا جس میں مزید100 بیسز پوائنٹس کی کمی گئی اور شرح سود کم ہو کر7 فیصد تک آگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *