April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

مہاتیر محمد بھارت کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹ گئے

MAHATEER MUHAMMAD PM MALYSIA e1571758386778

وزیراعظم مہاتیر محمد نے ہندو تاجروں کے ملائیشیا سے اربوں ڈالر مالیت کی ناریل کے تیل کی تجارت بند کرنے کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشمیر پر بھارتی جارحیت سے متعلق اپنا بیان واپس لینے سے انکار کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہندو تاجروں کی ملائیشیا سے ناریل کے تیل کی خریداری بند کرنے کی دھمکی کے باوجود وہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور حق خودارادی سے متعلق اپنا بیان واپس نہیں لیں گے۔

وزیراعظم مہاتیر محمد نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سے کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا جس پر اب بھی قائم ہوں اور کوئی دباؤ مجھے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *