April 15, 2026 لائیو نیوز
بریکنگ نیوز
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دیپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی: 100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہیو این سیکریٹری جنرل کا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کا خیر مقدم؛ پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراففضا علی کی تیسری شادی: شوہر اعجاز خان کون ہیں؟پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی، اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیاایران میں تباہ شدہ امریکی ایف 15 طیارے کا دوسرا اہلکار بھی ریسکیو، فائرنگ کا تبادلہایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو عبرت کا نشان بنا دیں گے، کمانڈر پاسدارانِ انقلابعلی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ: ایران کا اسرائیل، یو اے ای اور امریکی مراکز پر بڑا حملہوی لاگر رجب بٹ سے علیحدگی اور صلح کی افواہیں: ایمان فاطمہ نے خاموشی توڑ دی

بورس جانسن کو ایک اور شکست کا سامنا

BORIS JOHNSON BRITISH PM PARLAIMENT e1571666642269

بریگزٹ ڈیل کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو اس وقت ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جب اپوزیشن اراکین بریگزٹ ڈیل کی منظوری میں ایک بار پھر رکاوٹ بن گئے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش ہونے کے سبب بریگزٹ ڈیل پیش ہی نہ کی جا سکی۔ برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ اب وزیراعظم نو ڈیل بریگزٹ کے حوالے سے اراکین کو بلیک میل نہیں کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پرانی ڈیل سے بھی بدتر ہے جسے برطانوی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
دوسری جانب برطانیہ کی سڑکوں پر بریگزٹ کے مخالف اور حامی بھی آمنے سامنے آ گئے، لندن میں بریگزیٹ کے لیے نئے ریفرنڈم کے حق میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔

بریگزیٹ ڈیل کے مخالفین نے حکومت کی جانب سے 100 ملین پاؤنڈ کی بریگزیٹ کے حق میں اشتہاری مہم کے جواب میں یورپ سے الحاق برقرار رکھنے کی مہم کا آغاز کر دیا۔

گیارہ سو اسکوائر میٹر بریگزیٹ مخالف بینر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ لندن میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے سبب اراکین پارلیمنٹ کو پولیس کے حصار میں باہر نکلنا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *